جشن نوروز

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - ماہ فرو دین (ایرانی) کا چھٹا دن، نئے سال کا پہلا دن (ایرانی جنتری کے مطابق اس روز نیا سال شروع ہونے کی خوشی منائی جاتی ہے)۔ "جشن نو روز کے موقع پر محل شاہی میں چراغاں ہوتا تھا۔"      ( ١٩٢٩ء، کوائف سلطنت شاہی، ١٠٩ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جشن' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر صفت عددی 'نو' اور اسم 'روز' پر مشتمل ترکیب لگانے سے مرکب توصیفی 'جشن نوروز' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٢ء میں عبدالکریم کی "الف لیلہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ماہ فرو دین (ایرانی) کا چھٹا دن، نئے سال کا پہلا دن (ایرانی جنتری کے مطابق اس روز نیا سال شروع ہونے کی خوشی منائی جاتی ہے)۔ "جشن نو روز کے موقع پر محل شاہی میں چراغاں ہوتا تھا۔"      ( ١٩٢٩ء، کوائف سلطنت شاہی، ١٠٩ )

جنس: مذکر